نئی دہلی، 24دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)نصیر الدین شاہ اکثر ملک اور سماجی سوالات پر اپنی بیباک رائے رکھتے ہیں لیکن اس بارزبردستی ان کولے کرہنگامہ کیاجارہے ہے۔اجمیر لیٹرریچر فیسٹول میں مخالفت کے سبب وہ حصہ بھی نہیں لے پائے،اب انہوں نے ایک ویڈیو کے ذریعہ اپنی کتاب کے لانچ کرنے کے ساتھ ہی اپنے بیان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اجمیرسے کچھ دور پوشکر میں بند دروازوں کے پیچھے نامعلوم جگہ پر نصیر الدین کے لئے ایک سیشن کا انعقاد کیا گیا۔اس کی نظامت اردومصنف سیف محمد نے کی۔یہاں نصیر نے اپنی کتاب ’’نصیر کا نظیر پھر ایک دن‘‘کا اجراء کیا۔رپورٹ کے مطابق اتوار کو اجمیر لیٹرریچر فیسٹیول میں نصیر کے پرستار کے سامنے ویڈیو میسج کے ذریعہ کتاب کالانچ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران اپنے بیان پر صفائی دی کہ یہ ملک میرا بھی ہے اور اس کے لئے مجھے شورمچانے کی ضرورت نہیں۔نصیر نے کہا کہ یہ ملک میری ماں ہے،میں ملک مخالف نہیں ہوں،مجھے ملک کی تنقیدکرنا غلط لگتا ہے لیکن اگر مجھے کچھ غلط لگے گا تو میں اس کے بارے میں ضرور بولوں گا،میری 4پشتیں ا س ملک میں رہتے آرہی ہیں،میں اس ملک سے بہت محبت کرتا ہوں اور مجھے اس کیلئے کوئی شورمچانے کی ضرورت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق لیٹریچر فیسٹول آرگنائزر نے ایک بیان میں کہا کہ بحث سے بچنے کے لئے نصیرالدین کے سیشن کو اجمیر سے پشکر منتقل کر دیا گیا۔